لندن کی ڈائری

By
In Articles

لندن کی ڈائری
لندن میں عید سعید
لندن کی ایک سہانی شام، ٹاور برج کے سامنے دریائے تھیمس کی لہروں پر شفق کے عکس نے ماضی کے دریچوں کو کرید دیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کل کی ہی بات ہے جب تین دہائی قبل ہگلی ندی کی لہروں میں اسی طرح کا عکس دیکھنے کے لئے میں اکثر وہاں پر موجود رہتا تھا اور آج تمام مناظر پھر سے تروتازہ ہوگئے۔ کلکتہ کی یاد ستانے لگی۔ کلکتہ کو لندن کی طرح دیکھنے کے ارمان دریائے تھیمس کی لہروں کی طرح مچلنے لگے۔ کاش میں بھی کچھ تعاون کرسکوں۔ فوراً یہ خیال آیا کہ شہر صرف کنکریٹ اور فلک بوس عمارتوں کا ہی مجموعہ نہیں بلکہ ان عمارتوں کے مکیں کی تہذیب و تمدن، روایت و ثقافت کے عنصر سے شہر معطر رہتا ہے۔ اس خیال نے مجھے لندن کی ڈائری لکھنے پر مجبور کیا۔ اخبار مشرق کے اسپورٹس ایڈیٹر لندن میں اولمپک گیمز کوور کرنے آئے تھے تو انہوں نے یہ مشورہ قبول کیا۔ اور اس طرح دیر آید درست آید کے مصداق آج قارئین مشرق کے سامنے اس ڈائری کا پہلا باب پیش خدمت ہے اوریہ سلسلہ ہر ہفتے اسی عنوان کے ساتھ شامل صفحہ رہے گا تاکہ اخبار مشرق میں بھی مغرب کی سرگرمیاں شامل رہیں۔ بلاشبہ اس ڈائری کا پہلا ورق لندن میں عید سعید کی تیاریوں سے آراستہ ہے۔
ماہِ رمضان اب اپنے آخری عشرے میں ہے اور عید سعید کی تیاریاں شروع ہو چکی ہے۔ لندن میں عید کلکتہ سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی ہے۔ یہاں عید سے پہلے بچے اور عورتیں شاپنگ میں لگ جاتے ہیں۔ ایشیائی لوگوں کی زیادہ تر شاپنگ ، ویمبلی، ساوتھ ہال، ٹوتنگ(ٹوٹنگ) اور گرین اسٹریٹ میں ہوتی ہے۔ یہ علاقے ایشیائی لوگوں کی آبادی والا علاقے ہیں۔ یہاں زیادہ تر دکانیں کھانے پینے اور کپڑوں کی ہیں۔ اس کے علاوہ حلال گوشت کی دکانیں بھی ہے۔
لندن میں اب چاند رات کی اہمیت بھی بڑھنے لگی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے نوجوان شہر میں گھومتے رہتے ہیں اور لڑکیاں منہدی لگواتی ہیں یا بیوٹی پارلر کو جاتی ہیں۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زیادہ تر پاکستانی باشندے ہوتے ہیں۔ بہت سارے نوجوان ڈھول بجاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔عید کا چاند دیکھنے کا مسئلہ لندن میں کئی سالوں سے زیرِ بحث بنا ہو ا ہے۔ ایک طبقہ سعودی عرب کے اعلان پر عید کی نماز پڑھتا ہے تو دوسرا طبقہ رویتِ حلال کمیٹی کے اعلان پر نماز پڑھتا ہے۔ فی الحال اس مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر موڈرن کی مسجد سعودی عرب کے اعلان پر نماز کا اہتمام کرتی ہے تو دوسرے دن ٹوٹنگ کی مسجد میں نماز کا اہتمام ہو تا ہے کیونکہ ٹوٹنگ والے رویتِ حلال کمیٹی کی بات کو مانتے ہیں۔ ہر مسجد میں زیادہ تر جماعتیں دو یا تین ہوتی ہیں۔ کام پر جانے والے لوگ پہلی جماعت سے نماز پڑھ کر کام پر چلے جاتے ہیں۔ بچے جنھیں اسکول جانا ہوتا ہے وہ بھی پہلی جماعت سے نماز پڑھ کر اسکول چلے جاتے ہیں۔ اگر عید ہفتہ یا اتوار کو پڑتی ہے تو یوں احساس ہوتا ہے کہ عید کلکتہ جیسی ہے۔ چھٹی کا د ن ہوتا ہے اور کافی چہل پہل بھی رہتی ہے۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ پچھلے کچھ سالوں سے عید کی نماز پارک میں بھی ہونے لگی ہے۔ چونکہ مئی سے ستمبر تک لندن کا موسم خوشگوار ہوتا ہے۔
َؒنماز کے بعد لوگ قبرستان جاتے ہیں جہاں وہ اپنے عزیزواقارب کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہیں۔ یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ مسلمانوں کے قبرستان عیسائیوں کے قبرستان سے منسلک ہوتے ہیں اور ان قبرستانوں کی دیکھ بھال مقامی کو نسل کرتی ہے۔

اس کے بعد لوگ اپنے رشتہ دار اور دوستوں سے ملنے جلنے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے گھروں میں پارٹیوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور ڈھیر سارے کھانے پینے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ کھانے میں سوئیاں ، بریانی، تندور مرغ،پراٹھے، چاپ ، مٹھائی اور پھل وغیرہ ہوتے ہیں۔
یہاں میں ایک بات اور عرض کردوں کہ لندن میں زکوٰۃ کا بھی خوب چرچا ہوتا ہے۔ یہاں کی مختلف تنظیمیں مشلا مسلم ایڈ، زکوۃ فاؤنڈیشن، مسلم ہینڈ،اسلامک ایڈ کافی نمایاں ہیں اس کے علاوہ پاکستا ن کی ایدھی فاونڈیشن، عمران خان کا کینسر اسپتال وغیرہ زکوٰۃ اکھٹا کرنے میں کافی سر گرم رہتے ہیں۔
عید کے دن زیادہ تر لوگ جو پاکستانی نژاد ہیں وہ شلوار قمیض پہنتے ہیں اور جو عرب ہیں وہ عرب کی عربی لباس پہنتے ہیں۔ لندن میں عید کے دن دنیا بھر کے مسلمانوں کا جم غفیر ہوتا ہے اور یہ نظارہ لندن سنٹرل مسجد یا اسلامک کلچرل سنٹر میں دیکھنے کو ملتاہے جسے ریجنٹس پارک مسجد بھی کہتے ہیں۔ یہاں کوئی پانچ سے چھ جماعتیں ہوتی ہیں۔ یہاں لندن کے ہر علاقے سے لوگ آتے ہیں ۔ نماز پڑھنے کے بعد لوگ پاس کے ریجنٹس پارک میں پکنک کے لئے اکھٹے ہو تے ہیں۔ جہاں دنیا کے ہر ممالک کے لوگ اپنے قومی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ یہاں اس لئے نماز پڑھتے ہیں کہ ان کی ملاقات پرانے دوستوں سے ہو جاتی ہے۔
ؑعید گزرنے کے کچھ ہفتے تک مختلف تنظیمیں اپنے اپنے علاقے میں سنگیت اور ڈنر کا بھی اہتمام کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر حیدرآباد، کیرالا، سری لنکا، پاکستان، ترکی،ماریشس وغیرہ کے باشندے اپنی اپنی کمیونیٹی کے لئے اسی طرح کی تقریبات کا انتظام کرتے ہیں۔
حکو مت برطانیہ کی طرف سے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، وزیر خارجہ ولیم ہیگ اور بارونیس وارثی منسٹر آف فیتھ اور کمونیٹی نے مسلمانوں کو عید الفطر کی مبا رک باد پیش کی اور کہا کہ اس مبارک موقعہ پر حکومت کی جانب سے دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
مسلم کونسل برٹن اور چھوٹی بڑی تنظیموں نے بھی اس موقعہ پر مسلمانوں کی عید کے تہنیتی پیغامات سے پذیرائی کی۔ انڈین ہائی کمیشن عید کے موقعہ پر اپنا دفتر بند رکھتا ہے اور شہر کی معززہستیوں کے علاوہ دوسرے ملکوں کے سفارت کار کو بھی عید کی پارٹی دی جاتی ہے۔اس موقعہ پرانڈین ہائی کمشنر ڈاکٹر بھاگوتی کی طرف سے طعام کا عمدہ انتظام بھی ہو تا ہے۔
آخر میں میں اپنی جانب سے تمام لوگوں کو دل کی گہرائی سے عید کی ڈھیر ساری مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اگلے ہفتے اتوار کو پھر ایک نئی خبر کے ساتھ حاضر ہونے کا وعدہ کرتا ہوں۔

Recent Posts

Leave a Comment