نقاب یا حجاب؟

By
In Articles

لندن کی ڈائری
نقاب یا حجاب؟
برطانیہ کے اخباروں ،ٹیلی ویزن اور ریڈیو پر آج کل یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ نقاب پہننے پر پابندی لگا دی جائے؟ اس بحث کی شروعات اس وقت شروع ہوئی جب برمنگھم کے ایک کالج نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا کہ مسلم خواتین جو نقاب پہنتی ہیں انہیں سیکوریٹی کے تحت کالج میں نقاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے بعد لیبریل ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک ایم پی کے اس بیان سے یہ معاملہ اور طول پکڑ لیا جب اس نے اپنی پارٹی کا نفرنس سے پہلے یہ کہہ ڈالا کہ مسلم عورتیں جو نقاب پہن کر اسکول ، ہسپتال اور ایسے ادارے میں جہاں وہ کام کرتی ہیں اور جہاں چہرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے ایسے اداروں میں ان عورتوں پر برطانوی حکومت کو پابندی عائد کر دینی چاہئے۔
پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ ہر شعبے میں زیر بحث بن گئی اور ہر کوئی اس پر اپنی اپنی رائے دینے لگے۔ ویسے بھی کچھ برسوں سے مسلم معاشرے سے جڑی کوئی بھی خبر ہو وہ یورپ میں فوراً زیر بحث بن جاتی ہے۔ بس کیا تھا سیاستدانوں سے لے کر مدہبی رہنما ، اسکالر اور عوام ہر کوئی اس بحث میں شامل ہو گیاہے۔ لیکن برطانیہ میں اب بھی ذی شعور لوگوں کا ماننا ہے کہ برطانیہ میں مذہب کی آزادی ہونی چاہئے اور ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے اپنے طور پر اپنی مذہبی زندگی گزارنے کا کا حق ملنا چاہئے۔
لیکن میڈیا کا ایک گروپ بار بار اس بحث کو اجاگر کر رہا ہے کہ کیوں مسلم عورتوں کو نقاب پہننا چاہئے اور وہ نقاب جس سے صرف خاتون کی آنکھ ہی دیکھا جائے؟ زیادہ تر سیا ستدان اور عوام اس بحث میں الجھنا ہی نہیں چاہ رہے ہیں اور وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ فرانس کی مثال بننا نہیں چاہتا ہے جہاں عورتوں کو نقاب پہننے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے ۔ویسے بھی برطانیہ کے عوام اپنے آپ کو رواداری(tolerance) والا ملک مانتے ہیں اور یہاں کے بیشتر لوگ مذہبی آزادی کے حق میں ہیں۔
اس بارے میں برطانیہ کی ہوم منسٹر تھریسا مے(Theressa May) کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کام نہیں ہے کہ وہ عورتوں کو یہ کہے کے ان کوکیا پہننا چاہئے اور کیا نہیں پہننا چاہئے۔ لیکن بہت سارے اسکالر اور براڈکاسٹر کا یہ ماننا ہے کہ کچھ کام و کاج میں مسلم عورتیں جو پورا نقاب پہنتی ہیں اس سے ان کے فرائیض میں فرق آجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہسپتال میں اگر کوئی مسلم نرس پورا نقاب پہن کر کام کرے تو اس سے کام کے دوران دقتیں پیدا ہوتی ہیں اور مریضوں پر اس کا اثر اچھا نہیں پڑتا ہے۔
ایک معروف براڈ کاسٹر Liz Jones کا یہ بھی ماننا ہے کہ برقعہ پہننے والی مسلم نرسوں کو ہسپتال میں کام نہ کرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی عورت ہسپتال میں نرس کا کام کرنا چاہتی ہے تو پھر اس عورت کو نرس کے یونیفارم میں ہی کام کرنا چاہیے۔
برطانیہ کے مسلم کمیونیٹی اس معاملے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ یہاں کے زیادہ تر مسلم خواتین حجاب کا استعمال کرتی ہیں اور وہ برطانیہ کے ہر شعوبوں میں اپنی قابلیت اور فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کے بارے میں برطانوی عوام کا رویہ بھی نرم ہے۔برطانیہ میں پچھلے کچھ برسوں میں حجاب پہننا مسلم عورتوں میں ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ مسلم عورتیں جو حجاب پہنتی ہیں ان کا چہرہ نمایاں ہو تا ہے اور صرف سر ڈھکا ہوتا ہے۔
نقاب پہننے والی خواتین کی نعداد یوں بھی برطانیہ میں کم ہیں۔ اسلامک اسکالر نقاب کو مذہب سے نہیں جوڑ رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ نقاب ایک کلچر اور علاقے سے جڑا ہوا ہے اس لئے اس پر کوئی مذہبی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔
برطانیہ میں مسلم عورتیں آزادی سے نقاب میں گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں لیکن انہیں کئی بار نقاب پہننے سے نسلی بھید بھاؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے کئی ایسے مقدمے عدالتوں میں پیش ہوئے تھے جہاں مسلم عورتوں کو نقاب پہننے پر کام میں نسلی بھید بھاؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Recent Posts

Leave a Comment