ڈیوڈ کیمرون کو منھ کی کھانی پڑی

By
In Articles

لندن کی ڈائری
ٍڈیوڈ کیمرون کو منھ کی کھانی پڑی
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو اس وقت منھ کی کھانی پڑی جب انہوں نے پارلیمنٹ میں شام پر حملہ کر نے کے لئے ایک ایمرجنسی پارلیمنٹ شیشن بلایا۔ دراصل پچھلے ہفتے اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ شام میں ہزاروں بچوں کو کیمیکل ہتھیار سے مار ڈالا گیا؟ اس خبر کو پڑھ کر اور تصویر کو دیکھ کر لوگوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ آناً فاناً ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ شیشن بلا کر اس بات کی منظوری لینی چاہی کہ اب وقت آ چلا ہے کہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ مل کر شام پر حملہ کر دے۔ لیکن ڈیوڈ کیمرون کو اس وقت شدید دھکہ لگا جب لیبر پارٹی اور کچھ کنزیرویٹی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ نے ڈیوڈ کیمرون کی اس رائے کے خلاف ووٹ ڈالی تھی اس بنا پر کہ کیمیکل ہتھیار کی خبر تصدیق شدہ نہیں ہیں ۔ ڈیوڈ کیمرون اس ہار سے بہت دل بر داشتہ ہوئے اور انہیں انگلینڈ کے اخبارات یہ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ میں پہلی بار کسی برٹش وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں اتنا نیچا دیکھایا گیا ہے اور اس بات پر وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چا ہے تھا۔
لیکن ان تمام باتوں سے برطانیہ کی عوام میں ملے جلے خیالات ہیں۔ زیادہ تر لوگ برطانیہ کی ملٹری ایکشن کے خلاف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کا حل بات چیت کے ذریعہ طئے ہونا چاہئے۔ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ برطانیہ نے عراق کی جنگ میں امریکہ کی بات مان کر بہت ذلیل ہوا تھا اس لئے برطانیہ کور امریکہ کی جی حضوری نہیں کرنی چاہئے ۔
برطانیہ کی مسلم آبادی ان تمام معاملات سے کافی مایوس ہیں۔ لوگوں میں ایک طرف تو ان تمام باتوں سے سخت ناراضگی ہے کہ آخر یہ تمام معاملات مسلم ممالک میں ہی کیوں ہو رہے ہیں؟ ایک طبقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے اسرائیلی حکومت کا ہاتھ ہے؟ تو
دوسری طرف کچھ لو گ اسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی شازش بتا رہے ہیں؟
لیکن بات یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم آخر دوسروں کے سہارے یا دوسروں کے بغیر کیوں نہیں جی پاتے ہیں۔ کیوں ہمیں ہر معاملات میں دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے؟ کیوں عرب لیگ ان معاملات میں شیدائی بنی رہتی ہے؟
آج مسلمانوں میں جماعت اتنی ہوگئی ہے کہ ان میں آپس میں اتحاد ہی نہیں رہا۔مجھے تو بس مسلمانوں میں سوائے غیبت، آپسی رنجش، بد عنوانی، نفرت، اور کم عقلی ہی نظر آرہی ہے۔ آج مجھے مسلم ممالک میں کوئی بھی ایسا لیڈر نظر نہیں آرہا ہے جو مسلمانوں کی رہنمائی کرے یا اس معاملے میں وہ اپنی کوئی رائے دیں۔۔ دنیا کے زیادہ تر مسلم ممالک نے اپنے آپ کو مغربی طاقتوں کو بیچ رکھا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں دور دور تک کوئی بھی ایسا مسلم لیڈر نظر نہیں آرہا ہے جو مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔
برطانیہ اور امریکہ کو مسلم ممالک کے حکمرانوں کی کمزوری کا اچھی طرح علم ہے اس لئے وہ اپنی من مانی اور غلط بیانی سے اپنے حکمرانوں کو لیڈر بناتے اور ہٹاتے رہتے ہیں۔ جس کی مثال حال ہی میں کئی مسلم ملکوں میں دیکھی گئیں ہیں۔حال ہی میں مصر میں جہاں جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئیں تھی اور امریکہ اور برطانیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی۔ اس سے تو یہاں یہ بات عیاں ہوگئی کہ امریکہ اور برطانیہ کو مسلم ملکوں میں نہ تو جمہوریت پسند ہے اور نہ ہی آمرانہ حکومت پسند ہے ۔
برطانیہ حکومت کی اس دوہر ی پالیسی سے یہاں کے عوام میں غصہ تو ہیں مگر وہ اس معاملے میں اتنا احتجاج نہیں کر رہے ہیں جتنا کہ ہونی چاہئے تھی۔ ان تمام واقعات سے برطانیہ کے مسلمان کافی ناراض ہیں او وہ اس معاملے میں خاموش رہنا ہی عقلمندی سمجھ رہے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ براڈ کاسٹر ڈیوڈ فروسٹ اب اس دنیا میں نہیں رہے
عالمی شہرت یافتہ اور سرکردہ براڈ کاسٹر سر ڈیوڈ فروسٹ کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ وہ ۷۴ سال کے تھے۔ موت سے پہلے انہوں نے ملکہ الیزبتھ جہاز میں سنیچر کی شام ایک تقریر کی تھی جو ان کی آخری تقریر تھی۔ سر ڈیوڈ فروسٹ نے ۵۰ سال سے زیادہ کا عرصہ بطور ٹیلی ویزن کے مشہور اسٹار کی طرح گزارا تھا۔ انہوں نے دنیا کے درجنوں سیاست دان،کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کا انٹرویو لیا تھا اور جس میں بدنام امریکی صد ر رچرڈ نیکسن سب سے اہم تھا جس سے انہوں نے اس سے واٹر گیٹ اسکینڈل کا جرم ٹیلی ویزن پر قبول کروایا تھا۔
سر ڈیوڈ فروسٹ نے دنیا کے ان تمام ہستیوں کے انٹرویو لئے جس میں مشہور شاہی خاندان، سیاست دان، چرچ کے پادری، شو بزنس سے جڑے لوگ اور ہر شعوبوں کے لوگ شامل تھے ۔ کہتے ہیں کے سر ڈیوڈ فروسٹ نے جتنی شخصیتوں کے انٹرویولئے ہیں اتنا ابھی تک کسی اور براڈ کاسٹر نے نہیں لئے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سر ڈیوڈ فروسٹ کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سر ڈیوڈ فروسٹ قابل قدر،ہنر مند اور دلیر براڈ کاسٹر تھے۔
سر ڈیوڈ فروسٹ کو عالمی شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے بدنام امریکہی صدر رچرڈ نیکسن کا انٹرویو لیا تھا۔سر ڈیوڈ فروسٹ نے اس بات کو محسوس کیا تھاکہ ان کا انٹریو امریکہ کے صدر رچرڈ نیکسن سے ایک بہت ہی مشکل کام تھا۔ سر ڈیوڈ فروسٹ نے جب انٹرویو کے دوران نیکسن سے ان کے واٹر اسکینڈل میں ان سے یہ قبول کروایا کہ انہوں نے بطور امریکی صدر اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا ہے تو ڈیوڈ فروسٹ کو یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے اپنی براڈ کاسٹر کا رول ایمانداری سے نبھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے انٹرویو کے دوران نکسن نے غلطی سے کہہ ڈالا کہ ” when the President does it, that means it’s not illegal” اور اس کے بعد نیکسن نے یہ قبول کیا کہ اس نے امریکہ کی عوام کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا ہے۔ سر ڈیوڈ فروسٹ کی اس انٹرویو کو لگ بھگ دنیا کے تمام ٹیلی ویزن پر نشر کیا گیا تھا
او رکہتے ہیں کہ امریکہ میں لوگوں نے اب تک اتنی بڑی تعداد میں کوئی اور ٹیلی ویزن پروگرام نہیں دیکھا تھا۔
سر ڈیوڈ فروسٹ کو لوگوں نے سب سے پہلے ہفتہ کی رات کو انگلینڈ میں ہونے والا ٹی وی پروگرام “that was the week that was” سے جانا تھا جو کہ ۱۹۶۰ ؁ میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ویسٹ اینڈ کے ڈراموں میں بھی کام کیا تھا اور حال ہی میں انہوں نے ہولی ووڈ کی ایک فلم میں بھی رول کیا تھا۔ ۲۰۰۸ ؁ کے ایک تاریخی ڈرامہ فروسٹ اور نیکسن میں مشہور اداکار مائیکل شینن نے نیکسن کے انٹرویو کا بہترین رول ادا کیا تھا۔ یہ فلم کافی مشہور ہوئی تھی اور اس کا انتخاب ۵ گولڈین گلوب اور ۵ اکاڈمی ایوارڈ کے لئے ہو ا تھا۔ سر ڈیوڈ فروسٹ نے لگ بھگ ٹیلی ویزن کے تقریباً تمام ایواراڈ جیتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’a one man conglomerate ‘ تھے۔
ڈیوڈ پاراڈائین فروسٹ کی پیدائیش ۷ اپریل ۱۹۳۹ ؁ کو ہوئی تھی۔ ان کے والد کینٹ کے ایک چرچ کے پادری تھے۔ ان کی ابتدئی تعلیم Gillingham Grammar School اورWellingborough Grammar School میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے Caius College, Cambridge سے ڈگری حاصل کی تھی۔
سر ڈیوڈ فروسٹ نے دنیا کے تمام معروف اور جانے پہچانے لوگوں کا انٹریو لیا تھا جن میں خاص کر امریکہ کے تمام صدر اور برٹش وزیر اعظم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پرنس چارلس، ڈیوک اور ڈچیچز آف یورک، روبرٹ کینیڈی،ہنری کیسینگر، پیر ٹروڈیو، میخائیل گورباچیف، اندرا گاندھی، بینظیر بھٹو، کنگ حسین، گولڈا مئیر،یاسر عرفات، یاتزک رابن، نیلسن منڈیلا اور اف ڈبلو ڈی کلارک جیسے نام قابلِ ذکر ہیں۔
سر ڈیوڈ فروسٹ واحد ایسے براڈکارسٹر ہیں جنہوں نے ۱۹۶۴ ؁ سے ۲۰۰۷ ؁ کے دوران چھ برٹش وزیر اعظم اور ۱۹۶۹ ؁ سے ۲۰۰۸ ؁ کے دوران سات امریکی صدر کا انٹریو لیا تھا۔
سر ڈیوڈ فروسٹ نے حال ہی کے دنوں میں ۱۷ کتابیں تصنیف کی تھیں، کئی فلمیں پروڈیوس کیا تھا اور دو ٹیلی ویزن نیٹ ورک پروگرام شروع کیا تھا۔ ان کو ۱۹۷۰ ؁ میں ملکہ الیزبتھ کی جانب سے OBE(order of British Empire) کا خطاب اور ۱۹۹۳ ؁ میں’ سر ‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سر ڈیوڈ فروسٹ ایک منفرد اور اعلی براڈ کاسٹر تھے اور وہ اپنے اسی منفرد انداز سے انہوں نے دنیا کے ہر خطے میں اپنی عزت اور شہرت بنا لی تھی جسے لوگ انہیں کبھی نہیں بھلا پائینگے۔

Recent Posts

Leave a Comment